چیف جسٹس صا حب کے قانونی اصلاحات کے لیے کیے گئے اقداما ت


Mian Fayyaz Ahmed Posted on April 19, 2018

حا لیہ چیف جسٹس میاں ثاقب نثار جہا ں و طنِ عز یز میں انصا ف کے بنیا دی تقا ضو ں کو نبھا نے کی غر ض سے عد لیہ کی سمت در ست کر نے کا بیڑا اٹھا چکے ہیں، وہیں انہو ں نے تسلیم کیا کہ عدا لتو ں میں زیرِالتواء مقد مے بےحد زیا د ہ ہیں۔اور وہ تیس تیس سا ل سے ویسے ہی پڑے ہو ئے ہیں۔ ملکی قو ا نین بو سید ہ ہو چکے ہیں۔ اِس مسئلے کی سنگینی کی شدت کو محسو س کر تے ہو ئے انہو ں نے قانونی اصلاحات کے آغاز کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ عوام کے بنیادی حقوق کا حل اولین ترجیح ہے لیکن ہمارے پاس قانون سازی کا اختیار نہیں، قانون سازوں کے پاس اختیار ہے مگر ان کے پاس وقت نہیں۔ یہ کہ غر یبو ں کی شنوائی کی با ری بہت دیر بعد آ تی ہے۔انہو ں نے ستر ستر سا ل پر انے مقدما ت کے جا ری ر ہنے پہ د کھ کا ا ظہا ر کر تے ہو ئے وکلاء سے کہا کہ نظا مِ عد ل کی خا میاں دور کر نے کے لیے وہ ان کا سا تھ دیں اور ہڑتا ل کا کلچر ختم کر یں۔ چیف جسٹس صا حب کے ان اقدا ما ت کی رو شنی میں یہ کہنے میں کو ئی عار نہیں کہ عوا م کو سستے اور فو ری انصا ف کی فر ا ہمی ریا ست اور عد لیہ کی او لین ذمہ داری ہے۔ مگر ہما رے نظا مِ عد ل کی فرسودگی کی بناء پر دا داجان کا مقد مہ پو تے میا ں کو لڑ نا پڑ تا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ انہوں نے رضاکاروں، اہل فکر افراد اور نیٹ ورک کی ضرورت محسوس کی اور درحقیقت بنیادی انسانی حقوق کو اولین ترجیح قرار دیتے ہوئے اسی سمت سفر کا اعلان کرد یا ہے۔ اگرچہ آزاد عدلیہ کو داخلی طور پر کئی چیلنجز بھی درکار ہیں اور قانونی نظام اقدار پر یقین رکھنے والے اہل نظر ملکی صورتحال کے تناظر میں اس بات کے بھی منتظر ہیں کہ عدالت عظمیٰ کی ٹیم اور قانونی و عدالتی اصلاحات کا جو بیڑا چیف جسٹس نے اٹھایا ہے وہ سفینہ کب ساحل مراد پر لنگر انداز ہوگا۔ ۔ حقیقت یہ ہے کہ عدالتی فعالیت پر بحث کے تمام دروازے کھلے ہیں۔ بعض مکاتب فکر اس جوڈیشل شیک اپ کو جمود شکن خیال کرتے ہیں جبکہ سیاسی مین سٹریم جماعتوں کے بعض رہنمائوں کا ردعمل عدالتی فعالیت کے نکتہ عروج کے بارے میں ذرا مختلف ہے۔ اداروں کا جب ذکر آتا ہے تو لازماً انتظامیہ، مقننہ اورعدلیہ زیر بحث آتے ہیں جبکہ ریاست کے چوتھے ستون میڈیا کو بھی نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ بلاشبہ قانونی اصلاحات پر عمل درآمد ریاستی ڈھانچہ کی تعمیر نو، ملکی، سماجی اور سیاسی نظام کے استحکام اور عام آدمی کو سستا انصاف مہیا کرنے کو یقینی بناناہے۔ یہ مشترکہ مقاصد اس وقت تک حاصل نہیں ہوسکتے جب تک تمام اداروں میں ہم آہنگی اور خیر سگالی کا ماحول پیدا نہیں ہوجاتا۔ محاذ آرائی اور کشمکش کسی بھی سماج کے لیے زہر قاتل سے بدتر ثابت ہوسکتے ہیں۔ اسی لیے مسئلہ بلوچستان میں صحت و تعلیم کا شد ید نقصا ن ہوا ہے۔ مگر اس تصویر کے تناظر میں تمام صوبوں کی عکاسی کی گئی ہے۔ چیف جسٹس نے بدحالی اور انحطاط کا تقابل سندھ و بلوچستان کے حوالہ سے مناسب انداز میں کیا ہے۔ کہیں بھی صورتحال خراب ہوگی اس کا اثرات ملکی، معاشرتی، سیاسی اور سماجی نظام میں زوال آمادگی سے مشروط دکھائی دیں گے۔
جیسا کہ او پر تحریر کیا ہے کہ ملکی قوانین بہت بوسیدہ ہوچکے ہیں۔ سول پروسیجر کوڈ 1908ء میں مرتب کیا گیا جو موجودہ حالات سے مطابقت نہیں رکھتا۔ اس نکتہ پر وکلاء برادری اور ماہرین قانون سیر حاصل گفتگو کر سکتے ہیں۔ چیف جسٹس نے قومی دکھوں کا شدت کے ساتھ ذکر کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ بہت سی اصلاحات پر کام شروع کر رکھا ہے، اللہ کرے کامیاب ہوجائوں۔ مجھے رضاکار، دماغ اور نیٹ ورک چاہیے جو لیگل ریفارمز کے مشن میں ساتھ دیں۔ ججز کے پاس بہت کام ہے اس وجہ سے مقدمات تیزی سے نمٹا نہیں پاتے۔ وکلاء سے انہو ں نے کہا کہ وکیل لاچار نہیں، آپ بہت مضبوط اور حوصلہ مند لوگ ہیں۔ وکیل جب خود کو لاچار اور بے بس کہتے ہیں مجھے شرم آتی ہے۔ ہزارہ برادری کی ٹارگٹ کلنگ کے واقعات سے میرا سر شرم سے جھک گیا۔ حکومت کا بنیادی مقصد ایک ہی ہے کہ بنیادی حقوق کی سہولت دے۔ انتظامیہ کا کام ہے کہ عدلیہ کے لیے سہولتیں پیدا کرے۔ انتظامیہ ناکام ہوئی تو عدلیہ کے دروازے وکلاء پر بند نہیں ہوں گے۔ چیف جسٹس نے صوبہ میں پانی، ینگ ڈاکٹرز کو تنخواہ کی عدم ادائیگی، ہائوس جاب کرنے والوں کر ہر 2 ماہ بعد وظیفہ دینے پر سرزنش کرتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ کا ڈرائیور 35 ہزار تنخواہ لے رہا ہے اور آپ ڈاکٹرز کو 24ہزار دیتے ہیں۔ چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ این ایف سی ایوارڈ کے سب سے زیادہ پیسے بلوچستان کو ملے۔ پسماندہ صوبہ کے پیسے کون کھاگیا؟
بات قانونی اصلاحات کی ہے تو اہل دانش کو اس ذہنی غلامی سے آزادی کا بھی سوچنا چاہیے جو ملک خداداد کو سیاسی بحرانوں سے نکلنے کی بصیرت عطا کرسکتی ہے، طبقاتی نظام تعلیم پر بند باندھ سکتی ہے، اور کرپشن کے ناسور سے وطن عزیز کو پاک رکھ سکتی ہے۔ حکمرانوں کی سنگ دلی، بے حسی اور عوام سے دوری نے بڑے مسائل پیدا کیے ہیں مگر ان کا حل بھی منتخب نمائندوں کی اجتماعی ذمہ داری ہے اور آئین و قانون پر چلنے کا سیاسی چلن ہی ملک کی سالمیت کا ضامن ہے۔یہ حقیقت کسی سے ڈھکی چھپی نہیں کہ تعز یرِ پا کستان کا ڈھا نچہ ہند و ستا ن میں نا فذبر طا نو ی تعز یر ا تی مجمو عہ کو اپنی بنیا د بنا تا ہے۔ 1860میں تیا رہو نے وا لے ڈیڑھ سو بر س سے زائد پرانے اس مجمو عہِ تعز یر ا ت میں تبد یلیا ں نا گز یر ہیں۔ اس حو ا لے سے جنا ب چیف جسٹس کا یہ کہنا اس حقیقت کا آئینہ دار ہے کہ سو ل پر و سیجر کو ڈ مو جو ہ حا لا ت سے مطا بقت نہیں رکھتا۔جہا ں تک قا نو ن سا زی کی با ت ہے تو اس کی ذمہ دا ری سیدھی سیدھی حکو مت کی ہے۔ لہذا حکو مت کو اپنی ذمہ دا ریو ں کا ادرا ک کر تے ہو ئے نظامِ انصا ف کے بنیا دی ڈھا نچے میں تبد یلیا ں لا نی چا ہیں، اور جد ید خطو ط پر اس نظا م کو استوا ر کر نا چا ہیئے۔ یادش بخیر 1995میں عدا لتی نظا م کی مد د کی غر ض سے اس میں کمپیو ٹر سسٹم متعا رف کر ا یا گیا تھا۔مگر اس کے بعد کو ئی قا بلِ ذ کر تبد یلی رو نما نہ ہو سکی۔ تا ہم یہ امر خو ش آ ہند ہے کہ بے شک محد و د پیما نے پہ ہی سہی، لیکن آ ہستہ آ ہستہ عدا لتی نظا م میں جد ت طر ا زی کی جا رہی ہے۔ اس کی ایک مثا ل لا ہو ر ہا ئی کو ر ٹ سمیت پنجا ب بھر کی ما تحت عد لیہ میں آ ئی ٹی ا نٹر پر ا ئز یز سسٹم کا آ غا ز ہے۔ جس سے نہ صر ف یہ کہ مقد مے کے ا ند را ج سے فیصلے تک کا مکمل سسٹم کمپیو ٹر ا ئز ہو تا ہے بلکہ یہ کہ وکلاء کے سا تھ سا تھ سا ئلین کو بھی کیس سے متعلق آ گا ہی کے لیئے بذ ریعہ ایس ایم ایس اطلا ع فر ا ہم کی جا تی ہے۔دو سر ی جا نب مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ وطنِ عز یز کی عدا لتو ں میں اٹھا رہ لا کھ سے زا ئد مقد ما ت زیرِ سما عت ہیں، جس کی بناء پر ہر جج پر ہزارواں کیسیز کا بو جھ ہے۔ بہر حا ل چیف جسٹس صا حب کی جا نب سے قا نونی ا صلا حا ت کے لیئے ا ٹھا ئے جانے وا لے اقد ا ما ت کی رو شنی میں حا لا ت میں بہتر ی کی تو قع بڑھ رہی ہے۔