جیل تو جیل ہے، سختی توہوتی ہے: اپوزیشن لیڈر شہباز شریف


Syed Rizwan Shamsi Posted on December 10, 2018

اسلام آباد: قائد حزب اختلاف میاں شہباز شریف پارلیمنٹ اجلاس میں شرکت کیلئے قومی اسمبلی میں پہنچے۔ اس موقع پر صحافی سے گفتگو میں انہوں نے کہا کہ جیل تو جیل ہے، سختی تو ہوتی ہے۔ اپوزیشن لیڈر شہباز شریف پارلیمنٹ ہاؤس پہنچے جہاں وہ قومی اسمبلی اجلاس میں شرکت کریں گے۔ نیب کی ٹیم شہباز شریف کو لاہور سے براستہ موٹروے لے کر اسلام آباد پہنچی۔ سپیکر قومی اسمبلی سد قیصر نے مسلم لیگ ن کی درخواست پر شہباز شریف کے پروڈکشن آرڈرز جاری کئے۔اس موقع پر ایک صحافی نے قائد حزب اختلاف شہباز شریف سے سوال کیا کہ جیل میں سختی تو نہیں ہو رہی؟ جس پر انہوں نے کہا کہ جیل تو جیل ہے، سختی تو ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ میڈیکل کرانا میرا حق ہے، ٹیسٹ میں تاخیر ہوتی ہے۔قومی اسمبلی پہنچے کے بعد مسلم لیگ ن کے چیئرمین راجا ظفر الحق نے شہباز شریف سے ملاقات کی اور ان کی خیریت دریافت کی، ملاقات میں ترجمان مسلم لیگ ن مریم اورنگزیب بھی موجود تھیں، ملاقات میں پارلیمانی امور اور نیب کیسز سے متعلق بات چیت کی گئی۔خیال رہے کہ پنجاب حکومت کی جانب سے شہباز شریف کو پاکستان جیل خانہ جات قوانین 1978ء کے رُول 242 کے تحت بی کلاس کی سہولیات دی گئی ہیں۔ بی کلاس کے تحت شہباز شریف کو جیل میں ٹی وی، اخبار اور بستر کی اجازت دے دی گئی۔ پنجاب حکومت کی جانب سے گزشتہ روز جاری ہونے والے نوٹی فیکیشن کے مطابق اپوزیشن لیڈر کو کھانا منگوانے کی سہولت میسر ہوگی، بیرک میں کرسی اور میز رکھنے کی اجازت بھی دی گئی ہے۔ شہباز شریف کو جیل کے کچن کے ساتھ بیرک میں رکھا گیا ہے۔